15 صَفَر / July 29

واشنگٹن / ریاض / بغداد: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) اور سعودی عرب نے عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں کے خلاف مشترکہ فضائی کارروائیوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے حالیہ ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے۔

سینٹکام کے مطابق امریکی اور سعودی لڑاکا طیاروں نے گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران مشرقی عراق میں متعدد لاجسٹک مراکز، اسلحہ کے ذخائر اور دیگر اہداف کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی ایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) کی ہدایات پر کیے گئے 30 سے زائد ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی، جن کا ہدف امریکی افواج اور سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فروری سے اپریل کے دوران عراق میں ایران نواز مسلح گروہوں نے امریکی شہریوں، فوجی اہلکاروں اور تنصیبات پر 600 سے زائد حملوں یا حملوں کی کوشش کی۔ سینٹکام نے خبردار کیا کہ اگر ایسے حملے جاری رہے تو امریکا مزید فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

دوسری جانب سعودی وزارتِ دفاع نے بھی مشترکہ کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون کے تحت حاصل حقِ دفاع کے مطابق کیے گئے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق سعودی عرب خطے میں کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتا، تاہم اگر مستقبل میں اس کی سرزمین، شہریوں یا قومی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو مملکت اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی۔

ادھر عراق کے نیم فوجی اتحاد حشد الشعبی (پاپولر موبلائزیشن فورسز) نے اپنے متعدد ہیڈ کوارٹرز پر حملوں کی تصدیق کی ہے۔ تنظیم کے مطابق شمالی صوبہ نینوا، جنوبی صوبہ بصرہ اور دیگر علاقوں میں کیے گئے حملوں میں کم از کم 20 اہلکار ہلاک جبکہ 30 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

اس سے قبل سعودی عرب نے اپنے مشرقی علاقے میں تیل کی تنصیبات پر ہونے والے ڈرون حملے کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا، جبکہ ایرانی میڈیا نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سعودی عرب پر دیگر ممالک سے کیے گئے حملوں سے ایران کا کوئی تعلق نہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سلامتی اور عالمی توانائی کی منڈی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔