5 ذوالحجة / May 22

ہم اور ہمارے رویے

تحریر: محمد وقاص قریشی

تعلیم اور شعور اگر صحیح سمت میں ہو تو قوموں کی ترقی کا باعث بنتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں پچھلے ۷۸ سال سے یہ بات دہرائی جا رہی ہے کہ ہم "ترقی پذیر” ہیں۔ جب ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرف دیکھتے ہیں تو ان کی کہانی دو دو سال کی نہیں، بلکہ صدیوں کی مسلسل محنت، نظم، انصاف اور مثبت رویوں کی ہوتی ہے۔ ہم بھی تیزی سے ترقی کی راہ پر ہیں، مگر یہ ترقی صرف مادی ڈھانچوں تک محدود نہ رہے بلکہ اخلاقی اور ذہنی ترقی بھی شامل ہو۔ معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے والے افراد ہی اصل محرک ہوتے ہیں۔

گزشتہ دنوں میری ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جو پاکستان کے ایک اہم سرکاری ادارے میں ملازم ہیں اور ساتھ ہی ایک نجی ادارے میں بھی کام کرتے ہیں۔ ملاقات نجی جگہ پر ہوئی تو انہوں نے حکومت، نظام اور معاشرے پر شدید تنقید شروع کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا معاشرہ پستی کی طرف جا رہا ہے، انصاف کا نام و نشان نہیں، اور یہ ملک اب رہنے کے قابل نہیں رہا۔ وہ اپنی اولاد کے بارے میں کہتے تھے کہ "میں نہیں چاہتا کہ میرے بچے یہاں رہیں۔” ان کی خواہش ہے کہ بچے باہر پڑھیں اور وہیں آباد ہو جائیں۔ اس خواب کو پورا کرنے کے لیے وہ دو نوکریاں کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں نوکریوں کا وقت ایک جیسا ہے۔ گورنمنٹ جاب سے ریلیکس لے کر وہ پرائیویٹ جگہ جاتے ہیں۔

یہ کہانی صرف ایک شخص کی نہیں، بلکہ ہمارے بہت سے تعلیم یافتہ طبقے کی ہے جو نظام کو کوستے ہیں مگر خود اسی نظام کا حصہ بن کر اس کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں۔

تربیت کی بنیاد گھر سے شروع ہوتی ہے۔ بچے سب سے پہلے والدین کو دیکھتے ہیں۔ اگر وہ حلال کمائی کرتے ہوئے، ایمانداری سے، انصاف کے ساتھ زندگی گزارتے نظر آئیں تو بچوں کے اندر وہی اقدار بیٹھ جاتی ہیں۔ الٹا اگر والدین دوہرا معیار رکھتے ہیں باہر تنقید، گھر میں سہولتوں کا حصول تو بچے بھی وہی سیکھتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو اچھا مستقبل دینے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر گھر میں انصاف، برادری میں ایمانداری اور نوکری میں دیانتداری نہیں دکھاتے تو یہ محض خام خیالی ہے۔

تبدیلی کا آغاز ہمیشہ اوپر سے نہیں، نیچے سے ہوتا ہے۔ اگر ہم معاشرے میں انصاف، قانون کی بالادستی، امیر غریب کا فرق ختم ہونے اور برابری چاہتے ہیں تو یہ سب اپنے گھر سے شروع کریں۔ اپنی اولاد کو بتائیں کہ جہاں بھی ہو، جو بھی مقام ملے، انصاف سے کام لو۔ کسی کے ساتھ زیادتی نہ کرو، اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاؤ۔ یہ باتیں صرف نصیحتوں سے نہیں، بلکہ اپنے روزمرہ کے عمل سے سکھائی جا سکتی ہیں۔ بچہ دیکھے گا کہ باپ ٹریفک سگنل پر رکتا ہے چاہے کوئی دیکھنے والا نہ ہو، تو وہ بھی ویسا ہی بنے گا۔

ہمارے پاس اس تبدیلی کی سب سے بڑی رہنمائی اسلام کی صورت میں موجود ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ نے نبوت سے پہلے ہی معاشرے میں "صادق” اور "امین” کا لقب حاصل کر لیا تھا۔ ایک ایسا شخص جو اپنی ذات میں ہی تبدیلی کا نمونہ تھا۔ نبوت کے بعد بھی انہوں نے مشکلات کے پہاڑوں کا سامنا کیا، مگر استقامت، صبر اور عملی مثال سے امت کو انصاف اور تقویٰ کا سبق دیا۔ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور دیگر مقامات پر ان کی زندگی کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی کا سفر آسان نہیں تھا، مگر ممکن ضرور تھا۔

آج ہمارے معاشرے میں سب سے آسان کام تنقید کرنا ہے۔ سوشل میڈیا پر، محفلوں میں، گھروں میں  ہر جگہ نظام، حکومت، عوام سب کو کوستے ہیں۔ مگر مثبت سوچنا، مثبت کام کرنا اور دوسروں کو مثبت راستہ دکھانا بہت مشکل ہے۔ ہم معاشرے کے تمام منفی پہلوؤں کو اجاگر تو کر لیتے ہیں مگر خود اس میں بہتری لانے کا کردار ادا نہیں کرتے۔

اگر ہم واقعی معاشرے کو بہتر بنانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے خود کو بہتر بنائیں۔ پھر اپنے خاندان کو، اپنی اولاد کو۔ مادی تربیت کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی لازمی ہے۔ بچوں کو صرف ڈگریاں دلوانا کافی نہیں، انہیں ذمہ دار، ایماندار اور محنتی شہری بنانا ہے۔

اگر ہم ایک اور عملی مثال دیکھیں تو ہمارے ملک میں ٹیکس کا نظام موجود ہے۔ ہم حکومت پر تنقید کرنے میں بہت ماہر ہیں، مگر جب ٹیکس دینے کی باری آتی ہے تو ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح اس سے بچ نکلیں۔ ٹیکس چوری کو ہم ایک ہنر سمجھتے ہیں، جبکہ حکومت پر بے جا تنقید کرنا ہمارا پسندیدہ شغل بن چکا ہے۔

ہم یہ چاہتے ہیں کہ حکومت ہم سے ٹیکس نہ لے، مگر وہ تمام سہولیات  سڑکیں، بجلی، پانی، تعلیم، صحت اور سیکورٹی  بھرپور انداز میں فراہم کرے جو ایک شہری کے جائز حقوق ہیں۔ کیا کسی بھی ترقی یافتہ یا صحت مند معاشرے میں ایسا ممکن ہے؟

زندگی کبھی آسان نہیں ہوتی۔ اسے آسان بنانا پڑتا ہے۔ اس کے لیے دن رات محنت کرنی پڑتی ہے۔ محنت صرف اپنے لیے نہیں، اپنی قوم اور ملک کے لیے بھی۔ ہمیں اپنے وقت کی قدر کرنی چاہیے۔ وہ لمحات جو ضائع ہوتے ہیں، وہ قوم کی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ قانون کی پابندی کریں، چھوٹی چھوٹی باتوں میں ایمانداری دکھائیں۔ دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے خود اس پر عمل کریں۔

ہم اگر چاہتے ہیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ترقی یافتہ اقوام کی طرح سوچیں، کام کریں اور زندہ رہیں تو ہمیں آج سے عملی اقدامات شروع کرنے ہوں گے۔ محنت کو عادت بنائیں، اخلاص کے ساتھ کام کریں، دین اور اخلاق کے ساتھ جڑے رہیں۔ والدین کے طور پر اپنی مثال قائم کریں۔ استاد کے طور پر طلبہ کو صرف کتابی علم نہ دیں بلکہ کردار بھی بنائیں۔ افسر کے طور پر رعایا کے ساتھ انصاف کریں۔ عام شہری کے طور پر اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ فرائض بھی ادا کریں۔

معاشرتی تبدیلی کا سفر انفرادی ذمہ داریوں سے شروع ہوتا ہے۔ جب ہر فرد اپنے دائرے میں بہترین کردار ادا کرے گا تو پورا معاشرہ بدل جائے گا۔ ہمارے رویے ہی ہمارا مستقبل طے کرتے ہیں۔ اگر رویے منفی، شاکی اور ذمہ داری سے بھاگنے والے ہوں تو ترقی صرف خواب رہے گی۔ الٹا اگر رویے مثبت، محنتی، انصاف پسند اور حل تلاش کرنے والے ہوں تو کوئی طاقت ہمیں پیچھے نہیں رکھ سکتی۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف باتیں کرنے والوں سے نکل کر عمل کرنے والوں کی صف میں کھڑے ہوں! ہمارا معاشرہ تبدیلی کا منتظر نہیں، بلکہ تبدیلی کا داعی بننے والا ہے۔ اٹھو، اپنے گھر سے، اپنے کام کی جگہ سے، اپنے محلے سے اس تبدیلی کی بنیاد رکھو۔ انصاف، ایمانداری، محنت اور مثبت رویے کو اپنا شعار بنا لو۔ اپنی اولاد کو نصیحتوں کی بجائے عملی مثال دے کر پالو۔ آج کا ہر فیصلہ، ہر چھوٹا عمل، اور ہر مثبت رویہ کل کے روشن پاکستان کی بنیاد بنے گا۔ ہمارے رویے ہی ہماری قسمت بدل سکتے ہیں۔ اگر ہم آج عزم کر لیں، محنت کریں، اور اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے آگے بڑھیں تو کوئی طاقت ہمیں روک نہیں سکتی۔ ہم پاکستان کو ان شاءاللہ ترقی یافتہ، انصاف پر مبنی اور عظیم قوموں کی صف میں کھڑا کر کے رہیں گے! یہ ہمارا عزم ہے، یہ ہمارا مشن ہے، اور یہ ہمارا مستقبل ہے۔

چلو اٹھو اج ابھی سے شروع کرتے ہیں ایک عظیم ملک کو اور عظیم بنانے کی کوشش کرتے ہیں