111
نوجوانوں کے نام: جنگ، سیاست اور امید کا راستہ
نوجوانوں کے نام: جنگ، سیاست اور امید کا راستہ تحریر: محمد وقاص قرشی آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ 2026 میں ہونے والی فوجی کارروائیوں اور اس کے بعد کی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ…
نوجوانوں کے نام: جنگ، سیاست اور امید کا راستہ
تحریر: محمد وقاص قرشی
آج دنیا ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ 2026 میں ہونے والی فوجی کارروائیوں اور اس کے بعد کی کشیدگی نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پاکستان کو بھی متاثر کیا ہے۔
پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر سامنے آیا ہے جو دونوں فریقین کے درمیان امن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، مگر یہ راستہ آسان نہیں۔
یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ معیشت، امن اور مستقبل کی جنگ ہے۔ ا س جنگ سے نہ میں پاکستان بلکہ بھارت، روس، چین جیسے بڑے مما لک بھی متا ثر ہورے ہیں۔ پوری دنیا پاکستان کی کاوشوں کو جہاں سہر ا رہی ہے وہاں انا پرستی اور میں نہ مانو نے ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کو ہمارے خلاف اس ایجنڈے اور امن کی کوشش میں بھی پروپگنڈا کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔
دوسری طرف، ہمارے اپنے ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف بیانات اور الزامات میں مصروف ہیں، جس سے نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ حالانکہ ہر سیاسی جماعت کو چاہیے کہ وہ ملک کے مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے اور مثبت کردار ادا کر ے۔جب کہ امن کی اس کوشش سے پاکستان سے زیادہ فائدہ بھارت کی عوام خصوصا غربت سے نیچے رہنے والے لوگوں کو ہے جو اج بھی گیس پٹرول اور کھاد کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ۔
دوسری طرف ہمارے ملک میں سیاسی عدم استقام بڑھ رہا ہے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف بیانات اور الزامات میں مصروف ہیں فوج اور دیگر اداروں پر غیر سنجیدہ گفتگو اور الزام لگائے جا رہے ہیں جس سے عوام اور خصوصا نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ جبکہ ہر سیاسی جماعت کو چاہیے کہ وہ ملک کے مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے اور مثبت کردار ادا کریں پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو جہاں پوری دنیا سہرا رہی ہے مانے اور سہرائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت اندرونی اور بیرونی دونوں چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ اور علاقائی کشیدگی اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہمیں سنجیدگی اور اتحاد کی ضرورت ہے۔
۔پاکستان، تمام تر اندرونی و بیرونی چیلنجز کے باوجود، عالمی امن کے قیام میں ایک اہم اور قابلِ قدر کردار ادا کر رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی افواج کی خدمات کو پوری دنیا سراہتی ہے، جہاں انہوں نے مشکل ترین حالات میں امن قائم رکھنے کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ اسی طرح پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بھی بڑی قربانیاں دے کر نہ صرف اپنے ملک بلکہ خطے اور دنیا کے امن میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں بھی علاقائی استحکام اور امن کے فروغ کے لیے مسلسل جاری ہیں، جسے عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے ہم نوجوان کیا کریں ؟: ؟
نوجوانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ انصاف، برابری، برداشت اور مواقع کی فراہمی کا نام ہے۔ اگر نوجوان حقیقت کو سمجھے بغیر صرف منفی بیانیے کا حصہ بن جائیں تو وہ خود بھی نقصان اٹھاتے ہیں اور معاشرے کو بھی کمزور کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر وہ مثبت سوچ اپنائیں، تعلیم حاصل کریں، تحقیق کریں، اور سچائی کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کریں تو وہ نہ صرف اپنے مستقبل کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ ملک اور دنیا میں امن کے قیام میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ملک کی مثبت پہچان کو آگے بڑھائیں، اختلافات کے باوجود برداشت اور مکالمے کو فروغ دیں، اور اپنے کردار، عمل اور سوچ سے یہ ثابت کریں کہ وہ ایک ذمہ دار قوم کے نمائندے ہیں۔ دنیا پاکستان کی امن کوششوں کو تسلیم کرتی ہے، اب وقت ہے کہ نوجوان بھی اس حقیقت کو سمجھیں اور خود کو ایک مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنائیں، کیونکہ ایک پرامن دنیا کا خواب صرف باتوں سے نہیں بلکہ عمل، شعور اور اجتماعی کوششوں سے ہی پورا ہو سکتا ہے۔
نوجوان اس قوم کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔ اگر وہ سوشل میڈیا پر نفرت، منفی پروپیگنڈا اور بے مقصد بحثوں میں وقت ضائع کریں گے تو ملک مزید پیچھے جائے گا۔ اور اس میں نوجوانوں کا کردار نہایت اہم ہے کیونکہ وہ کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت ہوتے ہیں
اختلافات کے باوجود سیکھیں تو یہی نوجوان پاکستان کو اور دنیا کو بحران سے نکال سکتے ہیں یہ وقت کسی ایک جماعت یا ایک لیڈر کا نہیں ہے بلکہ پاکستان کا ہے ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ یہ جنگیں تباہی لاتی ہیں اور سیاست کا مقصد خدمت ہونا چاہیے نہ کہ انتشار نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ جذبات کے بجائے شعور سے فیصلہ کریں سچ اور جھوٹ میں فرق کریں اور ہر خبر پر یقین کرنے کے بجائے تحقیق کریں پرسکون رہیں پر امید رہیں اور پاکستان کے لیے سوچیں جس کو حاصل کرنے کے لیے ہمارے ابا و اجداد میں پانی کی طرح خون بہایا کیونکہ قوم نعروں سے نہیں بلکہ شعور اور کردار سے بنتے ہیں
ہماری جان ایمان اور شان صرف پاکستان








