112
کشمیر، پاکستان اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں
کشمیر، پاکستان اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں ریاست کو اکثر ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ جس طرح ایک ماں اپنے بچوں کی تربیت، حفاظت اور روشن مستقبل کے لیے بعض اوقات سخت فیصلے کرتی ہے، اسی طرح ریاست بھی اجتماعی مفاد اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض اقدامات کرتی ہے۔ ایک ماں…
کشمیر، پاکستان اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں
ریاست کو اکثر ماں سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ جس طرح ایک ماں اپنے بچوں کی تربیت، حفاظت اور روشن مستقبل کے لیے بعض اوقات سخت فیصلے کرتی ہے، اسی طرح ریاست بھی اجتماعی مفاد اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے بعض اقدامات کرتی ہے۔ ایک ماں کے کئی بچے ہوتے ہیں اور ہر بچے کی ہر خواہش پوری کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ ماں بہتر جانتی ہے کہ کون سی خواہش بچے کے حق میں بہتر ہے اور کون سی اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات ہماری ضد، جذبات یا وقتی خواہشات ہمیں ایسے راستوں پر لے جاتی ہیں جن کے نتائج نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ آزاد کشمیر ایک طویل عرصے تک پاکستان کے پرامن ترین خطوں میں شمار ہوتا رہا، جہاں مختلف علاقوں، برادریوں اور طبقات کے لوگ باہمی احترام، محبت اور اتحاد کے ساتھ زندگی گزارتے رہے۔ اختلافِ رائے، سیاسی سرگرمیاں اور انتخابات ہمیشہ سے جمہوری معاشروں کا حصہ رہے ہیں، لیکن ماضی میں اختلافات کو تصادم میں تبدیل ہونے سے روکا جاتا رہا اور مسائل کو بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کیا جاتا تھا۔
کشمیر اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ ہمیں اپنی انا اور ضد کو اس حد تک نہیں لے جانا چاہیے کہ اس سے قومی مفادات کو نقصان پہنچے یا دشمن عناصر کو فائدہ حاصل ہو۔ اگر ہم کشمیر کی آبادی کا جائزہ لیں تو لاکھوں کشمیری پاکستان کے مختلف صوبوں میں رہتے ہیں، تعلیم حاصل کرتے ہیں، کاروبار کرتے ہیں اور ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کشمیر بلا شبہ قدرت کا حسین تحفہ اور جنتِ نظیر خطہ ہے، جس کے امن، خوبصورتی اور وقار کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یہ حقیقت بھی تسلیم کی جانی چاہیے کہ عوامی مسائل کے حل کے لیے اٹھائے جانے والے بہت سے مطالبات جائز اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق ہوتے ہیں۔ اگر کسی عوامی تحریک یا نمائندہ گروہ کے مطالبات لوگوں کی بہتری اور ان کے بنیادی حقوق سے متعلق ہیں تو ان پر سنجیدگی سے غور ہونا چاہیے۔ تاہم تصادم، تشدد، نفرت انگیزی اور قانون شکنی کسی مسئلے کا پائیدار حل نہیں ہوتے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ترقی یافتہ قوموں نے اپنے مسائل مکالمے، برداشت، صبر اور جمہوری عمل کے ذریعے حل کیے ہیں جبکہ تصادم اور انتشار نے ہمیشہ معاشروں کو نقصان پہنچایا ہے۔
ریاستی اداروں کے ساتھ محاذ آرائی سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف داخلی استحکام متاثر ہوتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی ہمارے قومی مؤقف کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ خصوصاً کشمیر جیسے حساس مسئلے پر ہمیں انتہائی دانشمندی، اتحاد اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ پاکستان اور کشمیر کے مخالف عناصر کو کسی قسم کا منفی پراپیگنڈا کرنے کا موقع نہ ملے۔
ایک کشمیری کی حیثیت سے میرا ایمان ہے کہ کشمیر اور پاکستان کا رشتہ صرف جغرافیائی نہیں بلکہ تاریخی، نظریاتی، مذہبی اور جذباتی بھی ہے۔ "ہم پاکستانی ہیں، پاکستان ہمارا ہے” صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک عہد ہے جسے عملی کردار، اتحاد، اخلاص اور قومی خدمت کے ذریعے ثابت کرنا چاہیے۔ مرحوم سید علی شاہ گیلانیؒ نے بھی ہمیشہ کشمیر اور پاکستان کے درمیان مضبوط تعلق کو اجاگر کیا اور کشمیری عوام کے جذبات کی ترجمانی کی۔
آج کے دور میں جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور مختلف چیلنجز درپیش ہیں، ہمیں اپنے قومی مفادات، معاشی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کو ترجیح دینی چاہیے۔ مسلسل احتجاج، ہڑتالوں اور تصادم کی فضا سے معیشت، تعلیم، کاروبار اور روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے، جس کا نقصان بالآخر عام عوام کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ ہم اپنے فیصلے جذبات کے بجائے تدبر، حکمت اور دور اندیشی کی بنیاد پر کریں۔
کشمیری عوام ہمیشہ امن پسند، محب وطن اور محبت و اخوت کے جذبات رکھنے والے لوگ رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے تمام صوبوں کے ساتھ بھائی چارے، احترام اور یکجہتی کا رشتہ چاہتے ہیں۔ اگرچہ ماضی میں بعض ایسے واقعات پیش آئے جن سے عوامی جذبات مجروح ہوئے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں سے پاکستان عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا آیا ہے۔
میں اپنے نوجوانوں، بزرگوں، بہنوں اور بھائیوں سے گزارش کروں گا کہ جذبات کے بجائے حالات کا گہرائی سے تجزیہ کریں۔ اگر ہم واقعی اپنے خطے، قوم اور ملک کی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں قانون، آئین اور جمہوری اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے لیکن اس کا اظہار مہذب، پرامن اور تعمیری انداز میں ہونا چاہیے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ریاستی اداروں میں خدمات انجام دینے والے افراد بھی ہمارے اپنے بھائی، بہنیں اور ہم وطن ہیں۔ فوج، پولیس، انتظامیہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار اسی ملک، انہی شہروں اور انہی خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اختلاف ہو سکتا ہے لیکن گالی، نفرت اور تضحیک کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ایک مہذب قوم ہمیشہ احترام، دلیل اور مثبت مکالمے کو ترجیح دیتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جائے، نوجوانوں کے لیے روزگار اور معیاری تعلیم کے مواقع پیدا کیے جائیں، مقامی سطح پر مشاورتی فورمز کو فعال بنایا جائے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مستقل مکالمے کا ماحول قائم کیا جائے۔ اسی طرح سماجی رابطوں کے ذرائع پر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے غیر مصدقہ معلومات کے پھیلاؤ سے اجتناب کیا جائے۔ کشمیر کے قدرتی حسن، سیاحت، ماحولیات اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے حکومت، عوام اور سماجی اداروں کو مشترکہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ سب سے بڑھ کر ہمیں اختلافِ رائے کو دشمنی کے بجائے جمہوری حق سمجھنا ہوگا اور برداشت، رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہی طرزِ فکر ہمیں ایک مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کی طرف لے جا سکتا ہے۔
آئیے ہم سب اس عہد کی تجدید کریں کہ پاکستان اور کشمیر کی ترقی، امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔ پاکستان اور کشمیر کا رشتہ محض سرحدوں کا نہیں بلکہ ایمان، قربانی، محبت اور مشترکہ تاریخ کا رشتہ ہے۔ یہی رشتہ ہماری طاقت، ہماری شناخت اور ہمارے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان اور کشمیر کو ہمیشہ قائم و دائم رکھے، ان کی سلامتی، عزت اور سربلندی میں اضافہ فرمائے اور دونوں خطوں کو ہمیشہ امن، ترقی اور خوشحالی کا گہوارہ بنائے۔
پاکستان زندہ باد، کشمیر پائندہ باد








