12 مُحَرَّم / June 27

سول نافرمانی: عمران خان جلا ہوا کارتوس چلانا چاہتے ہیں
خرم ابن شبیر

عمران خان نے سول نافرمانی کا اعلان کرتے ہوئے ایک بار پھر وہی پرانا کارڈ کھیلنے کی کوشش کی ہے جو پہلے ہی عوام میں ناکام ثابت ہوچکا ہے۔ یہ اعلان نہ صرف غیر سنجیدہ ہے بلکہ ان کی قیادت اور حکمت عملی کی ناکامی کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ 2014 کے دھرنے میں انہوں نے عوام سے کہا تھا کہ وہ بجلی اور گیس کے بل ادا نہ کریں اور خود بھی بل جلائے۔ مگر چند دنوں کے بعد ان کے بنی گالہ کے گھر کے بل وقت پر ادا کیے گئے، اور یوں یہ تحریک مذاق بن کر رہ گئی۔ اب 2024 میں وہی پرانا حربہ دوبارہ آزمانا نہ صرف عوام کے شعور کی توہین ہے بلکہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عمران خان کے پاس نئے سیاسی اقدامات کا فقدان ہے۔

عمران خان کے سیاسی سفر میں ناکام فیصلوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ 2018 میں اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے سی پیک کو نقصان پہنچایا، جو ملکی معیشت کے لیے ایک اہم منصوبہ تھا۔ انہوں نے آئی ایم ایف کے سامنے ملکی معیشت کو گروی رکھا اور ریاستی بینک کو بیرونی کنٹرول کے حوالے کردیا۔ کشمیر کے معاملے پر ان کا نرم رویہ اور مسئلے کو سرد خانے میں ڈالنا ان کی سیاسی ناکامیوں کی واضح مثال ہے۔ ایک مغربی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں نیوکلیئر پروگرام کے حوالے سے ان کا مؤقف اور مسئلہ کشمیر کے حل کے بعد اسلحہ ختم کرنے کی بات نے ان کی حب الوطنی پر سوالات اٹھا دیے۔

آج ایک بار پھر وہ بیرون ملک پاکستانیوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ ترسیلات زر بند کر دیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ یہ مطالبہ نہ صرف غیر حقیقت پسندانہ ہے بلکہ ملکی معیشت کو تباہ کرنے کی ایک اور سازش کے مترادف ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی ترسیلات زر اپنے خاندانوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھیجتے ہیں۔ وہ عمران خان کے سیاسی ایجنڈے کی خاطر اپنے عزیزوں کو مالی مشکلات میں نہیں ڈال سکتے۔ یہ بات واضح ہے کہ عمران خان کے اس اعلان کو بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے پذیرائی نہیں ملے گی، جس طرح 2014 میں بھی ان کی کال کو نظرانداز کیا گیا تھا۔

عمران خان کے حالیہ اعلان نے ان کی اپنی پارٹی میں بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ سول نافرمانی کی یہ تحریک ماضی کی طرح ناکام ہوگی اور عوام اس میں شامل نہیں ہوں گے۔ خود پارٹی کے رہنما اپنے گھروں کے بجلی اور گیس کے بل ادا کیے بغیر نہیں رہ سکتے، تو پھر عام عوام سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ یہ بات بھی اہم ہے کہ عمران خان کے حالیہ اعلانات بغیر کسی مشاورت کے کیے جا رہے ہیں، جو ان کی قیادت میں پیدا ہونے والی دراڑوں کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

عمران خان کی سیاست اس وقت الزامات، دھمکیوں اور احتجاج تک محدود ہو چکی ہے۔ وہ اپنی ناکامیوں کا بوجھ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 2014 سے لے کر 2024 تک ان کی حکمت عملیوں میں کوئی خاص فرق نہیں آیا، اور ان کا ہر قدم ملکی معیشت، سلامتی، اور سیاسی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔ آج جب پاکستان دہشت گردی، معاشی بحران، اور سیاسی انتشار کا شکار ہے، تو عمران خان کا یہ قدم جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ سول نافرمانی کا یہ اعلان محض ایک سیاسی جوا ہے، جو نہ ماضی میں کامیاب ہوا اور نہ اب کامیاب ہوگا۔ عوام ان کے سیاسی بیانیے سے مایوس ہو چکے ہیں، اور وہ اب مزید ان کے غیر عملی اور نقصان دہ اقدامات کا حصہ بننے کو تیار نہیں۔ یہ وقت سیاسی انا کو ترک کرکے ملک کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھانے کا ہے، مگر عمران خان کی سیاست میں اس وقت صرف انتشار اور ذاتی مفادات کا غلبہ نظر آتا ہے۔

اگر عمران خان واقعی ملکی مفاد کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی حکمت عملیوں پر نظرثانی کرنی ہوگی اور اپنے اقدامات کو قومی مفادات کے تابع کرنا ہوگا۔ لیکن ان کے حالیہ رویے سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے ملک کو مزید مشکلات میں دھکیلنے پر آمادہ ہیں۔ ان کی یہ حکمت عملی نہ صرف ان کی اپنی سیاسی بقا کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ ملک کے استحکام کے لیے بھی ایک خطرہ ہے۔ سول نافرمانی کا یہ قدم عمران خان کی سیاسی ناکامی کی ایک اور داستان بن کر رہ جائے گا

Tags