14 ذوالقعدة / May 01

پاکستان نے انڈین آرمی چیف جنرل اوپیندر دیویدی کی جانب سے کشمیر میں پاکستانی عسکریت پسندوں کی موجودگی اور دراندازی کے دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا۔ پاکستانی دفتر خارجہ نے ان الزامات کو "بے بنیاد، گمراہ کن، اور اشتعال انگیز” قرار دیا، اور کہا کہ یہ بھارتی قیادت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی ایک اور ناکام کوشش ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، اور اس کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بھارت کے پاس جموں و کشمیر یا گلگت بلتستان پر کوئی قانونی یا اخلاقی دعویٰ کرنے کا حق نہیں۔

انڈین آرمی چیف نے اپنی سالانہ پریس کانفرنس میں الزام لگایا تھا کہ پاکستان عسکریت پسندوں کو کشمیر میں بھیج رہا ہے، اور دعویٰ کیا کہ 2024 میں مارے جانے والے 73 عسکریت پسندوں میں سے 60 فیصد پاکستانی تھے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کی جگہ سیاحت نے لے لی ہے اور سرحدی علاقوں میں اضافی فوجی تعیناتی سے مسلح تشدد میں کمی آئی ہے۔

پاکستان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اپنی ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی اور کشمیری عوام کے حقوق کی پامالی کا جواب دے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، بھارت کی جانب سے ایسے اشتعال انگیز بیانات خطے کے امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔

Tags