3 صَفَر / July 17
  • وقار احمد ترین
  • نور میڈیا پلس اسلام آباد

امریکی قومی سلامتی کے نائب مشیر جان فائنر کا حالیہ بیان، جس میں پاکستان کی "کارآمد میزائل ٹیکنالوجی” پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی دفاعی ترقی کو امریکہ ایک ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

پاکستان کا میزائل پروگرام جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد بھارت کے ساتھ اسٹریٹیجک ڈیٹرنس قائم رکھنا ہے۔ پاکستان نے مختلف رینجز کے بیلسٹک میزائل اور کروز میزائلز تیار کیے ہیں جن میں شامل ہیں:

  1. غوری، ابدالی، اور شاہین سیریز: مختلف فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل۔
  2. شاہین-III: سب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل، جس کی رینج 2750 کلومیٹر ہے، جو بھارت کے شمال مشرقی علاقوں تک پہنچ سکتا ہے۔
  3. بابر کروز میزائل: کم فاصلے کے ہدف کے لیے زیادہ درست میزائل۔
  4. امریکی حکام کے مطابق پاکستان نے "بڑی راکٹ موٹرز” اور دیگر ایسی ٹیکنالوجیز تیار کی ہیں، جو اسے بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (ICBM) بنانے کی صلاحیت دے سکتی ہیں۔ ICBM وہ ہتھیار ہیں جو 5500 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک مار کر سکتے ہیں اور امریکہ جیسے اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
  5.  امریکہ نے حالیہ طور پر پاکستان کے میزائل پروگرام سے جڑے چار اداروں پر پابندیاں عائد کی ہیں، جن میں نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس (NDC) بھی شامل ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد پاکستان کی ٹیکنالوجی تک رسائی کو محدود کرنا ہے۔
  6. عالمی تناظر: پاکستان کے میزائل پروگرام پر یہ تشویش امریکہ کی وسیع تر اسٹریٹیجک پالیسی کا حصہ ہے، جس میں روس، چین، اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے خلاف دفاعی اقدامات شامل ہیں۔ پاکستان کی اس نئی صلاحیت کو ممکنہ طور پر امریکہ کے لیے خطرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
  7. ٹیکنالوجی کی پیشرفت: پاکستان نے اپنی میزائل ٹیکنالوجی میں اہم ترقی کی ہے۔ بڑی راکٹ موٹرز کی تیاری اور لانگ رینج میزائلز کے تجربات اس بات کا اشارہ ہیں کہ تکنیکی طور پر پاکستان ICBM بنانے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
  8. اسٹریٹیجک ارادے: پاکستان کا دفاعی منصوبہ ہمیشہ بھارت کے خلاف ڈیٹرنس پر مرکوز رہا ہے، نہ کہ امریکہ یا دیگر ممالک کے خلاف۔ پاکستان کے بیانات بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کا میزائل پروگرام خطے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہے۔
  9. ٹیکنالوجی تک رسائی میں کمی: امریکی پابندیاں پاکستان کے میزائل پروگرام کو جدید ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں مشکلات پیدا کر سکتی ہیں، خاص طور پر بین الاقوامی مارکیٹ سے متعلقہ پرزے اور مواد خریدنے میں۔
  10. دفاعی ترقی کی رفتار: یہ پابندیاں پاکستان کی دفاعی ترقی کو سست کر سکتی ہیں، لیکن مکمل طور پر روکنا مشکل ہے کیونکہ پاکستان نے کئی شعبوں میں خود انحصاری حاصل کر لی ہے۔
  11. سفارتی تعلقات: یہ اقدامات امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر امریکہ پاکستان کو روس، چین، یا شمالی کوریا جیسی اسٹریٹیجک مخالفت کے زمرے میں دیکھے۔

پاکستان کے میزائل پروگرام پر امریکی تشویش کئی عوامل کی بنا پر جائز ہو سکتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا دفاعی منصوبہ زیادہ تر بھارت کے ساتھ جڑے خطرات پر مرکوز ہے۔ امریکہ کے خدشات اس کی اسٹریٹیجک پالیسی اور عالمی منظرنامے سے جڑے ہیں، جہاں وہ ہر ابھرتی ہوئی میزائل طاقت کو ممکنہ خطرہ تصور کرتا ہے پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی میں پیشرفت ایک حقیقت ہے، لیکن امریکہ تک پہنچنے والے میزائل بنانا نہ صرف تکنیکی بلکہ سفارتی طور پر بھی ایک بڑی تبدیلی کا متقاضی ہے۔ فی الحال پاکستان کی حکمت عملی ایسی نہیں لگتی جو امریکہ کے خلاف جارحانہ عزائم کی عکاسی کرے۔

4o

Tags