0
امریکا اور اسرائیل کا وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کا منصوبہ تیار کرنے کا دعویٰ
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج ایران کے خلاف ممکنہ مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کی تیاری کر رہی ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملوں کی منظوری کے بارے میں تاحال غیر یقینی صورتِ حال ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد…
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج ایران کے خلاف ممکنہ مختصر مگر شدید فوجی کارروائی کی تیاری کر رہی ہیں، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حملوں کی منظوری کے بارے میں تاحال غیر یقینی صورتِ حال ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے حملوں کی ممکنہ منصوبہ بندی سے متعلق رپورٹ سامنے آئی ہے۔ امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کے مطابق دونوں ممالک کی افواج ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف پہلوؤں پر کام کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں امریکی حکام اور منصوبہ بندی سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ممکنہ حملوں کے اہداف میں ایران کا توانائی کا بنیادی ڈھانچہ، جوہری تنصیبات، میزائلوں اور ڈرونز کے ذخائر شامل ہو سکتے ہیں۔ اخبار کے مطابق مجوزہ کارروائی مختصر لیکن شدید نوعیت کی ہو سکتی ہے۔
فوجی مشقوں میں اضافے کی اطلاعات
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے اپنی فوجی مشقوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان مشقوں میں عراق کی فضائی حدود میں پروازیں بھی شامل بتائی گئی ہیں، جن کے ذریعے ممکنہ حملوں کے طریقۂ کار کی مشق کی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے رواں ہفتے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کی، جس میں ایران پر ممکنہ نئے حملوں سمیت متعلقہ امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ایران کی جوہری تنصیبات ممکنہ اہداف میں شامل
اخبار کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے جانے والے منصوبوں میں پک ایکس ماؤنٹین پر واقع زیرِ زمین تنصیب بھی ممکنہ ہدف ہو سکتی ہے۔ یہ تنصیب زیرِ زمین انتہائی گہرائی میں قائم بتائی جاتی ہے۔
تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ان منصوبوں پر عمل درآمد کا حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امریکا واقعی نئے حملوں کا آغاز کرے گا یا نہیں۔
ٹرمپ کی منظوری سے متعلق غیر یقینی صورتِ حال
رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بھی ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے سے متعلق متعدد منصوبوں کو مسترد کر چکے ہیں، جس کے باعث تازہ منصوبوں پر عمل درآمد کے حوالے سے غیر یقینی صورتِ حال برقرار ہے۔
رواں ماہ کے اوائل میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مثبت پیش رفت کے تناظر میں مذاکرات جاری ہیں۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ ایسے فوجی منصوبوں پر تبصرہ نہیں کرتی جو ممکن ہے موجود ہوں یا نہ ہوں۔ عہدیدار کے مطابق صدر ٹرمپ نے تمام آپشنز کھلے رکھے ہیں تاکہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
واضح رہے کہ ایران پر نئے حملوں سے متعلق یہ تفصیلات نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر مبنی ہیں۔ تاحال ممکنہ کارروائی کی حتمی منظوری یا آغاز کے بارے میں کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔














