0
کنگ چارلس کے ملکہ کمیلا اور شہزادی ڈیانا سے رویے میں فرق کا انکشاف
شاہی امور کے مصنف سائمن ویگر کا کہنا ہے کہ کنگ چارلس اپنی اہلیہ ملکہ کمیلا کو شاہی تقریبات میں نمایاں کردار ادا کرنے کا موقع دیتے ہیں، جبکہ ماضی میں شہزادی ڈیانا کے ساتھ ان کا رویہ اس سے مختلف تھا۔ برطانوی شاہی خاندان سے متعلق ایک تازہ تجزیے میں کنگ چارلس کے اپنی…
شاہی امور کے مصنف سائمن ویگر کا کہنا ہے کہ کنگ چارلس اپنی اہلیہ ملکہ کمیلا کو شاہی تقریبات میں نمایاں کردار ادا کرنے کا موقع دیتے ہیں، جبکہ ماضی میں شہزادی ڈیانا کے ساتھ ان کا رویہ اس سے مختلف تھا۔
برطانوی شاہی خاندان سے متعلق ایک تازہ تجزیے میں کنگ چارلس کے اپنی موجودہ اہلیہ ملکہ کمیلا اور سابقہ اہلیہ شہزادی ڈیانا کے ساتھ رویے میں فرق کی نشاندہی کی گئی ہے۔
شاہی امور کے مصنف سائمن ویگر نے جریدے ہیلو (HELLO!) کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کنگ چارلس اور ملکہ کمیلا کے درمیان باہمی ہم آہنگی نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق دونوں شاہی ذمہ داریاں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ادا کرتے ہیں اور تقریبات میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں۔
سائمن ویگر کے مطابق ماضی میں کنگ چارلس شہزادی ڈیانا کو اس انداز میں نمایاں ہونے کا موقع نہیں دیتے تھے، جس طرح آج وہ ملکہ کمیلا کو شاہی تقریبات اور دیگر ذمہ داریوں کے دوران اہم کردار ادا کرنے کا موقع دیتے ہیں۔
شہزادہ ولیم اور شہزادی کیتھرین کی جوڑی بھی اہم
شاہی امور کے مصنف نے شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ شہزادی کیتھرین مڈلٹن کے تعلق اور باہمی ہم آہنگی پر بھی گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہزادہ ولیم اپنی اہلیہ کی موجودگی میں زیادہ پُرسکون دکھائی دیتے ہیں اور انہیں بھی نمایاں کردار ادا کرنے کا موقع دیتے ہیں۔
سائمن ویگر کے مطابق شاہی ذمہ داریاں تنہا نبھانا آسان نہیں ہوتا، اسی لیے میاں بیوی کے درمیان باہمی تعاون اور ہم آہنگی اہمیت رکھتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جب شہزادہ ولیم برطانیہ کے بادشاہ بنیں گے تو ان کی اور شہزادی کیتھرین کی مشترکہ ذمہ داریوں میں مزید ہم آہنگی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
انہوں نے شہزادی کیتھرین کو شہزادہ ولیم کے لیے ذاتی اور عوامی زندگی، دونوں حوالوں سے انتہائی اہم قرار دیا۔
واضح رہے کہ کنگ چارلس اور ملکہ کمیلا کی شادی کو 19 سال ہو چکے ہیں۔ برطانوی شاہی خاندان میں دونوں کی مشترکہ عوامی مصروفیات اور شاہی ذمہ داریوں میں شمولیت اکثر توجہ کا مرکز رہتی ہے۔














