5 جُمادى الأولى / October 16

بیجنگ: چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے مسئلۂ فلسطین کو اس صدی کی سب سے بڑی تاریخی ناانصافی قرار دیتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر روکے اور اس حوالے سے کیے گئے اقدامات واپس لے۔

چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق وانگ یی نے آذربائیجان میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ سے ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال اور مسئلۂ فلسطین کے حل پر تبادلۂ خیال کیا۔

اس موقع پر چینی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور مصالحت کا فروغ چین کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق پالیسی کا بنیادی حصہ ہے۔ ان کے مطابق مسئلۂ فلسطین کا منصفانہ حل خطے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے۔

وانگ یی نے دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے یہی درست راستہ ہے۔ انہوں نے غزہ میں انسانی بحران کو مزید شدت اختیار کرنے سے روکنے اور متاثرہ افراد تک فوری امداد پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

چینی وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ چین مسئلۂ فلسطین کے سیاسی حل کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے اور تنازع کے فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے تیار ہے۔

چین کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطین کی صورتِ حال، غزہ میں انسانی بحران اور مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کا معاملہ عالمی سطح پر مسلسل توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔