119
سانحۂ پمز: مزید ایک افسر کو قصوروار قرار دے دیا گیا، مصطفیٰ کمال
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ سانحۂ پمز سے متعلق تفصیلی تحقیقات کے بعد مزید ایک افسر کو قصوروار قرار دیا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 9 افراد کو ملازمت سے برطرف کیا جا چکا ہے۔ ’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ سانحۂ پمز کی ابتدائی…
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ سانحۂ پمز سے متعلق تفصیلی تحقیقات کے بعد مزید ایک افسر کو قصوروار قرار دیا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 9 افراد کو ملازمت سے برطرف کیا جا چکا ہے۔
’جیو پاکستان‘ میں گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ سانحۂ پمز کی ابتدائی رپورٹ میں 8 افراد کو ذمہ دار قرار دیا گیا تھا، جن کے خلاف فوجداری مقدمات کے اندراج کے لیے وزارتِ داخلہ کو خط ارسال کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق تفصیلی رپورٹ میں 33 سفارشات پیش کی گئی ہیں، جن پر عمل درآمد میں کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ پمز کے فائر سیفٹی سسٹم اور عمارت کے اسٹرکچر میں بہتری کے لیے وزیراعظم نے 3 ماہ کی مہلت دی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ پمز میں آئندہ 15 روز کے دوران 176 بستروں پر مشتمل نئی ایمرجنسی بھی فعال کر دی جائے گی۔
وفاقی وزیرِ صحت نے انتظامی امور پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق پاکستان کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے انتظامی یونٹس کا قیام ضروری ہے۔
انہوں نے صوبائی حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبوں کو وسائل اور اختیارات منتقل ہوئے، تاہم ان کے مطابق موجودہ سیاسی احتجاج کے پسِ پردہ اقتدار برقرار رکھنے کے مفادات بھی کارفرما ہیں۔








