112
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ آپ کو یاد ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو میں یاد دلاتا ہوں۔ گزشتہ برس ستمبر میں راولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی میں ایک لڑکی نے مقدمہ درج کروایا۔ اس نے خود کو میٹرک کی طالبہ ظاہر کرتے ہوئے ایک اکیڈمی کے پرنسپل، ضیاء الرحمن، پر جنسی زیادتی…
سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
آپ کو یاد ہے یا نہیں؟ اگر نہیں تو میں یاد دلاتا ہوں۔ گزشتہ برس ستمبر میں راولپنڈی کے تھانہ پیرودھائی میں ایک لڑکی نے مقدمہ درج کروایا۔ اس نے خود کو میٹرک کی طالبہ ظاہر کرتے ہوئے ایک اکیڈمی کے پرنسپل، ضیاء الرحمن، پر جنسی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا۔
مقدمے کی کہانی اس قدر جذباتی اور چونکا دینے والی تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا اور مین اسٹریم میڈیا نے اسے بھرپور انداز میں اٹھایا۔ نتیجتاً، بغیر کسی تاخیر کے پرنسپل کو گرفتار کر لیا گیا اور وہ جیل پہنچ گئے۔
جس شخص کو ملزم ٹھہرایا گیا، اس کی شخصیت اور کردار ایسے تھے کہ اس پر اس نوعیت کا الزام لگانا حقیقت سے کوسوں دور محسوس ہوتا تھا۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسے مقدمات میں جب تک عدالت سے بے گناہی ثابت ہوتی ہے، تب تک کسی کی نیک نامی کا جنازہ نکل چکا ہوتا ہے۔
ضیاء الرحمن، میرے قریبی دوست اور خیابان سر سید کے نوجوان سماجی کارکن امجد حبیب کے بھائی ہیں۔ جب امجد نے اصل حقائق سے آگاہ کیا تو یہ جان کر مزید افسوس ہوا کہ اس واقعے کے پس پردہ کچھ بااثر عناصر بھی شامل تھے۔ ان میں ایک گدی نشین اور ایک معروف اخبار سے وابستہ شخص کا نام بھی لیا جا رہا تھا، جو مبینہ طور پر صلح کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔
تاہم، امجد اور ان کے خاندان نے ہمت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر قانون پر اعتماد کیا اور کیس کو پوری مضبوطی سے آگے بڑھایا۔ بالآخر، عدالت نے ضیاء الرحمن کو باعزت بری کر دیا۔
اب ذرا مقدمے کے مندرجات پر نظر ڈالتے ہیں۔
لڑکی کا مؤقف تھا کہ وہ اکیڈمی میں زیرِ تعلیم تھی، جہاں ضیاء الرحمن نے اس سے تعلقات قائم کیے اور شادی کے لیے دباؤ ڈالا۔ انکار پر اس نے الزام لگایا کہ 21 مئی کو اسے زبردستی جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں اسقاطِ حمل بھی کروایا گیا۔
الزامات اپنی نوعیت کے اعتبار سے سنگین تھے اور مقدمہ درج ہونا فطری امر تھا۔ مگر جب عدالت میں ثبوت پیش کرنے کا وقت آیا تو کہانی کا تانا بانا بکھرنے لگا۔
لڑکی اپنی طالبہ ہونے کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکی؛ نہ کارڈ، نہ فیس رسید، نہ کوئی ریکارڈ۔
حمل سے متعلق جو میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی، اس میں جس "TDF ہسپتال” کا ذکر تھا، وہ راولپنڈی صدر میں سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔
مزید یہ کہ جس وقت اور تاریخ کا وقوعہ بیان کیا گیا، اس میں واضح تضاد پایا گیا۔ لڑکی نے 21 مئی کو امتحان کی تیاری کا ذکر کیا، جبکہ میٹرک کے امتحانات عموماً مارچ اور اپریل میں منعقد ہو چکے ہوتے ہیں۔ مزید برآں، راولپنڈی بورڈ کے ریکارڈ کے مطابق وہ لڑکی دو سال قبل ہی میٹرک مکمل کر چکی تھی۔
یہاں تک کہ معاملہ صرف الزامات تک محدود نہ رہا بلکہ مقدمہ واپس لینے کے لیے مبینہ طور پر لاکھوں روپے کا مطالبہ بھی سامنے آیا، جس نے کیس کے محرکات پر مزید سوالات کھڑے کر دیے۔
اتنے واضح تضادات کے بعد کیس کا برقرار رہنا ممکن نہیں تھا۔ بالآخر، عدالت عالیہ لاہور کی ہدایت پر سیشن کورٹ نے ایک ہفتے کے اندر فیصلہ سناتے ہوئے ضیاء الرحمن کو باعزت بری کر دیا۔
یہ مقدمہ صرف ایک فرد کا نہیں تھا، یہ ایک خاندان کی عزت، ایک استاد کے وقار اور ایک معاشرتی ساکھ کا سوال تھا۔ ایک جھوٹے الزام نے نہ صرف ایک شخص کی زندگی کو متاثر کیا بلکہ پورے خاندان کو کرب میں مبتلا کر دیا۔ اگرچہ عدالت کے فیصلے نے انصاف فراہم کیا، مگر کھوئی ہوئی عزت کی بحالی ایک طویل عمل ہے۔
تاہم، اس داستان کا ایک مثبت پہلو بھی ہے امجد اور اس کے خاندان کی استقامت۔ انہوں نے دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کیا اور سرخرو ہوئے۔
اب اصل امتحان ان عناصر کا ہے جنہوں نے اس جھوٹے کیس کو جنم دیا۔ قانون کا تقاضا ہے کہ وہ بھی انصاف کے کٹہرے میں آئیں اور ایک بے گناہ انسان کی زندگی کو داؤ پر لگانے کا حساب دیں۔
چھوٹا پراٹھا
انوار الحق مغل








