25 رَمَضان / March 14

ایران کے پاسداران انقلاب نے عراق کے نیم خودمختار شہر اربیل میں بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کردیا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق حملے کے نتیجے میں کردستان کےمشہورکاروباری شخصیت سمیت 4 شہری جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوگئے ہیں جس کے بعد کئی مقامات پر آگ بھی لگ گئی، امریکا نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ عراق کی خود مختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے کردستان کے علاقے میں اسرائیل کے جاسوسی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کیا، ایلیٹ فورس نے کہا کہ انہوں نے شام میں بھی داعش کے خلاف بھی حملہ کیا۔

 

 

ان حملوں سے 7 اکتوبر کو اسرائیل اور حماس کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس میں ایران کے اتحادی لبنان، شام، عراق اور یمن سے بھی میدان میں اتر آئے ہیں۔

پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ اربیل پر حملے ایران کے شہرکرمان پر حملوں کے جواب میں کیے ہیں، اس کے علاوہ گارڈز نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے شام میں متعدد بیلسٹک میزائل فائر کیے اور ایران میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے مرتکب افراد بشمول داعش کو تباہ کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ داعش نے رواں ماہ ایران میں دو دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں اعلیٰ کمانڈر قاسم سلیمانی کی یادگار پر تقریباً 100 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

عراقی وزارت خارجہ کے مطابق عراق نے تہران سے اپنے ایلچی کو واپس بلاتے ہوئے بغداد میں ایران کے چارج ڈی افیئرز کو طلب کیا اور حملوں کے خلاف احتجاج ریکارڈ کروایا ہے، وزارت خارجہ نے بتایا کہ بغداد عراق کی خودمختاری کی خلاف ورزی پر تمام قانونی اقدامات کرے گا۔

Tags