98
چیف جسٹس پاکستان سے آئی ایم ایف وفد کی ملاقات، عدالتی اصلاحات اور جوڈیشل پالیسی پر تبادلہ خیال
چیف جسٹس پاکستان سے آئی ایم ایف وفد کی ملاقات، عدالتی اصلاحات اور جوڈیشل پالیسی پر تبادلہ خیال اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کو عدالتی اصلاحات اور نیشنل جوڈیشل پالیسی سے آگاہ کیا۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیف…
چیف جسٹس پاکستان سے آئی ایم ایف وفد کی ملاقات، عدالتی اصلاحات اور جوڈیشل پالیسی پر تبادلہ خیال
اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے وفد کو عدالتی اصلاحات اور نیشنل جوڈیشل پالیسی سے آگاہ کیا۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ وفد کو عدلیہ کی آزادی اور اس کے دائرہ کار کے بارے میں تفصیلات فراہم کی گئیں۔
عدلیہ کی آزادی اور اصلاحاتی ایجنڈا
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ انہوں نے آئی ایم ایف وفد کو واضح کیا کہ عدلیہ آئین کے تحت مکمل آزادی کے ساتھ کام کر رہی ہے اور اس کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے اور ماتحت عدلیہ کی نگرانی کے حوالے سے بھی وفد کو آگاہ کیا، جبکہ بتایا کہ ہائی کورٹس ماتحت عدلیہ کی نگرانی کرتی ہیں۔
آئی ایم ایف وفد کی دلچسپی اور سوالات
چیف جسٹس کے مطابق آئی ایم ایف وفد نے معاہدوں کی پاسداری اور پراپرٹی حقوق سے متعلق جاننے میں دلچسپی ظاہر کی، جس پر انہیں آگاہ کیا گیا کہ ان معاملات پر اصلاحات جاری ہیں۔ انہوں نے وفد کو یقین دلایا کہ عدلیہ اس حوالے سے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے اور عدالتوں میں جلد سماعت کے لیے خصوصی بینچز تشکیل دیے جا رہے ہیں۔
غیر ملکی سرمایہ کاری کا تحفظ اور عدلیہ میں ٹیکنالوجی کے استعمال پر بات چیت
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بتایا کہ آئی ایم ایف وفد نے پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے تحفظ پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ میں جدید ٹیکنالوجی، بالخصوص مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے استعمال کی ضرورت ہے، تاکہ مقدمات کے جلد فیصلے ممکن ہو سکیں۔
آرٹیکل 184 (3) اور بانئ پی ٹی آئی کا خط
چیف جسٹس نے گفتگو کے دوران بتایا کہ بانئ پی ٹی آئی کی جانب سے جو مطالبات کیے جا رہے ہیں، وہ آرٹیکل 184 کی شق 3 سے متعلق ہیں۔ اس معاملے کو ججز آئینی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے، جو اس کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ آئینی نوعیت کا معاملہ ہے، لہٰذا اسے آئینی بینچ ہی دیکھے گا۔
ملاقات کا اختتام اور آئندہ کے لائحہ عمل
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے مطابق، آئی ایم ایف وفد کو عدلیہ کے اصلاحاتی اقدامات سے مکمل طور پر آگاہ کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ پاکستان میں عدالتی نظام کو مزید موثر اور شفاف بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ملاقات کے بعد آئی ایم ایف وفد سپریم کورٹ سے روانہ ہو گیا-