15 ذوالقعدة / May 02

وزیرِ مملکت شزا فاطمہ خواجہ نے سینیٹ اجلاس میں انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری کے حوالے سے اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکٹرم میں توسیع کے ساتھ انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری آئے گی، کیونکہ اسپیکٹرم پر دباؤ کی وجہ سے موجودہ مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ شزا فاطمہ نے اس بات کا ذکر کیا کہ پاکستان میں فی الحال 500 میگا ہرٹز اسپیکٹرم استعمال ہو رہا ہے، اور جو اسپیکٹرم کیسز عدالتوں میں تھے، وہ حکومت نے ختم کروا دیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی سب میرین کیبلز کی تعداد 8 ہے، جن میں سے ایک کیبل ڈیڈ ہو چکی ہے۔ تاہم، دو نئی سب میرین کیبلز آ رہی ہیں، جو انٹرنیٹ کی رفتار میں بہتری لائیں گی۔ اس پیشرفت سے نہ صرف انٹرنیٹ کی رفتار میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی ڈیجیٹل صلاحیت میں بھی اضافہ ہو گا۔

شزا فاطمہ نے مزید کہا کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) انٹرنیٹ کی رفتار کا آڈٹ کرتی ہے اور اس حوالے سے گزشتہ ڈیڑھ سال میں آڈٹ کے عمل کو دگنا کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ مالی سال کے پہلے 5 ماہ میں پاکستان کی آئی ٹی ایکسپورٹس میں 33 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو ایک مثبت پیشرفت ہے۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ آئی ٹی واحد صنعت ہے جس نے ٹریڈ سرپلس دیکھا ہے اور ملک میں 25 فیصد نئے انٹرنیٹ صارفین شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ موبائل براڈبینڈ پر انٹرنیٹ کے مسائل دیکھے گئے، لیکن فکسڈ لائن پر کوئی مسائل نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ، شزا فاطمہ نے کہا کہ متعلقہ تنظیم نے انہیں تین کمپنیوں کے بارے میں بتایا جنہیں انٹرنیٹ کی فراہمی میں مسائل پیش آ رہے ہیں، جنہیں چیک کرنے کے بعد یہ مسائل درست پائے گئے۔ اس بیان سے یہ واضح ہوا کہ حکومت انٹرنیٹ کے مسائل کو حل کرنے اور انٹرنیٹ کی رفتار کو بہتر بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔

Tags