110
16 دسمبر: نفرتوں کی فصل اور تاریخی سبق
16 دسمبر: نفرتوں کی فصل اور تاریخی سبق تحریر خرم ابن شبیر 16 دسمبر 1971 پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جب مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بن گیا۔ یہ واقعہ محض ایک فوجی شکست نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط سیاسی، سماجی، اور اقتصادی محرومیوں کا نتیجہ تھا۔ سقوطِ ڈھاکہ صرف اس وقت کی قیادت…
16 دسمبر: نفرتوں کی فصل اور تاریخی سبق
تحریر خرم ابن شبیر
16 دسمبر 1971 پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جب مشرقی پاکستان، بنگلہ دیش بن گیا۔ یہ واقعہ محض ایک فوجی شکست نہیں بلکہ دہائیوں پر محیط سیاسی، سماجی، اور اقتصادی محرومیوں کا نتیجہ تھا۔ سقوطِ ڈھاکہ صرف اس وقت کی قیادت کی ناکامی نہیں بلکہ نظامِ حکومت، اداروں، اور عوامی نمائندگی کے اصولوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی ناانصافیوں کا خمیازہ تھا۔ غیر نمائندہ حکمرانی کا المیہ 1958 سے لے کر 1971 تک کے 13 سال اور دو ماہ کا دور مشرقی پاکستان کے لیے سیاسی محرومیوں کا عروج تھا۔ اس عرصے میں مشرقی پاکستان کو وفاق میں نمائندگی نہ کے برابر دی گئی۔ اعلیٰ عہدے، بشمول چیف سیکرٹری، ہمیشہ مغربی پاکستان کے افراد کے لیے مخصوص رہے۔ مغربی پاکستان میں کسی بنگالی کو اعلیٰ انتظامی پوزیشن پر مقرر کرنا تو دور، ان کے مطالبات کو سننا تک گوارا نہیں کیا گیا۔ شیخ مجیب الرحمٰن جیسے لیڈران بارہا شکایت کرتے رہے کہ مشرقی پاکستان کو نوآبادیاتی غلاموں کی طرح سمجھا جا رہا ہے۔ ایوب خان کے اقتدار میں "بنیادی جمہوریتوں” کے نام پر ہونے والے انتخابات میں سرکاری مشینری کے ذریعے دھاندلی کرکے خود کو کامیاب قرار دینا، عوامی مینڈیٹ کی توہین کے مترادف تھا۔ ان حالات میں عوام کے دلوں میں نفرتوں کا پیدا ہونا اور ان کا بڑھتے چلے جانا حیران کن نہیں تھا۔ ایوب خان کی حکومت نے مشرقی پاکستان کی عوام کو مسلسل نظرانداز کیا، اور جب اقتدار سے علیحدہ ہوئے تو آئینی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے اقتدار اسپیکر قومی اسمبلی، جو کہ مشرقی پاکستان سے تعلق رکھتے تھے، کے حوالے کرنے کے بجائے یحییٰ خان کو سونپ دیا۔ یہ اقدام بنگالی عوام کے لیے ایک اور توہین تھی۔ یحییٰ خان کا دور اس نفرت کو ایک نئے درجے تک لے گیا۔ 1970 کے انتخابات میں عوامی لیگ نے واضح اکثریت حاصل کی تھی، لیکن اقتدار کی منتقلی میں تاخیر کی گئی۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے چھ نکات کو مغربی پاکستان میں غداری قرار دیا گیا، حالانکہ یہ نکات دراصل مشرقی پاکستان کے جائز حقوق کی بازیافت کی کوشش تھے۔ اگر کوئی سیاسی لیڈر ان انتخابات کے وقت قیادت میں ہوتا تو چھ نکات کے ساتھ الیکشن لڑنے کی اجازت ہی نہ دیتا یا انتخابات کے بعد اقتدار کی منتقلی میں تاخیر نہ کرتا۔ صدیق سالک اپنی کتاب "میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا” میں ان نفرتوں کی جڑوں کو عیاں کرتے ہیں۔ ایک واقعے میں، ایک بنگالی لڑکے کے ساتھ مغربی پاکستانی فوجی جوان کے توہین آمیز رویے نے یہ واضح کر دیا کہ مشرقی پاکستانیوں کو برابر کا شہری نہیں سمجھا جاتا تھا۔ ان رویوں نے مشرقی پاکستان کے عوام کے دلوں میں مغربی پاکستان کے خلاف نفرتوں کو مزید پروان چڑھایا۔ یہی نفرتیں اس وقت شدت اختیار کر گئیں جب مشرقی پاکستان کے ہیروز، جیسے ایم ایم عالم اور کرنل عثمانی، کے کارنامے بھلا دیے گئے اور ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں جیسا سلوک کیا گیا۔ بنگلہ دیش کے قیام میں امریکہ کے کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ 1971 میں، ویتنام میں ناکامی کا سامنا کرنے والے امریکہ کو مشرقی پاکستان میں بڑھتے ہوئے سوشلسٹ رجحانات سے خوف لاحق تھا۔ مولانا بھاشانی کی قیادت میں نیشنل عوامی پارٹی مشرقی پاکستان میں طبقاتی شعور بیدار کر رہی تھی، جو امریکہ کو ایک نئے ویتنام کے امکان سے ڈراتی تھی۔ ایوب خان کے دور میں مشرقی پاکستان میں دو اضافی فوجی ڈویژن تعینات کیے گئے، جن کے اخراجات امریکہ نے برداشت کیے، لیکن جب ایوب خان نے امریکی مفادات کو بیلنس کرنا شروع کیا تو امریکہ نے اندرونِ خانہ بنگلہ قومی تحریک کی حمایت شروع کر دی۔ یہی حمایت آگے چل کر 1971 کے واقعات میں کلیدی حیثیت اختیار کر گئی۔ ہنری کسنجر اور رچرڈ نکسن کے بیانات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ امریکہ نے مشرقی پاکستان کے حالات کو اپنے مفادات کے تحت استعمال کیا۔ 16 دسمبر: سبق اور ذمہ داری 16 دسمبر 1971 کا سانحہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی تاریخ کا دیانت داری سے جائزہ لیں۔ یہ دن صرف ایک شکست کا نہیں بلکہ خود احتسابی کا بھی ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ نے یہ واضح کر دیا کہ غیر منصفانہ رویے، عوامی حقوق کی پامالی، اور طاقت کے زور پر حکمرانی کبھی بھی اتحاد کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔ آج کے پاکستان میں بھی، ہمیں اس بات کو یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ محرومیوں اور ناانصافیوں کا خاتمہ کیے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور ایک ایسا نظام تشکیل دیں جو ہر شہری کو برابر کا حق اور عزت دے۔ 16 دسمبر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں اتحاد اور انصاف پر پروان چڑھتی ہیں، اور نفرتوں کی آبیاری صرف ٹوٹ پھوٹ کا سبب بنتی ہے۔ اگر ہم ماضی کے اس سبق کو بھلا دیں تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔








