99
شام میں نئی صبح کے آثار
تحریر: خرم ابن شبیر
شام، جو کبھی تہذیبوں کا مرکز اور امن کا گہوارہ تھا، پچھلے ایک دہائی سے جنگ، خونریزی، اور بربادی کی علامت بن چکا تھا۔ لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، کروڑوں بے گھر ہوئے، اور ملک کے خوبصورت شہر ملبے کا ڈھیر بن گئے۔ یہ سب نہ صرف انسانیت کی شکست تھی بلکہ امیدوں اور خوابوں کی موت بھی تھی۔ لیکن اب، برسوں کے اندھیرے کے بعد، ایک نئی صبح کے آثار نمودار ہو رہے ہیں۔
شام کے موجودہ حالات میں کچھ مثبت پہلو نظر آ رہے ہیں جو امید دلاتے ہیں کہ یہ ملک اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو دوبارہ پا سکتا ہے۔ بین الاقوامی برادری کی طرف سے شام کے مسئلے کو حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں، کچھ ممالک کے سفارتی تعلقات کی بحالی، اور پابندیوں میں نرمی کے امکانات وہ عوامل ہیں جو ایک بہتر مستقبل کی نوید دے رہے ہیں۔ معاشی سرگرمیوں کی بحالی کی ابتدائی جھلکیاں بھی سامنے آ رہی ہیں، اور یہ شام کے عوام کے لیے ایک بڑی امید ہے جو سالوں سے بے یقینی اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
تاہم، تصویر کا دوسرا رخ بھی اتنا ہی اہم ہے۔ شام کو درپیش مسائل کا حل محض بین الاقوامی تعلقات بہتر ہونے سے ممکن نہیں۔ ملک کے اندر موجود سیاسی عدم استحکام، فرقہ واریت، اور بداعتمادی کی جڑیں اب بھی گہری ہیں۔ جنگ سے متاثرہ لوگوں کی بحالی اور نوجوان نسل کو تعلیم و روزگار کی فراہمی کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی ابھی تک واضح نہیں۔
شام کے عوام، جنہوں نے دہائیوں کی جنگی تباہی دیکھی ہے، اپنی ہمت اور عزم کے لیے قابلِ ستائش ہیں۔ وہ اپنے ملک کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن انہیں اس راہ میں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ تباہ شدہ معیشت اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے لیے وسیع پیمانے پر مالی وسائل کی ضرورت ہے، جو اس وقت دستیاب نہیں ہیں۔
عالمی برادری کے لیے یہ لمحہ امتحان کا ہے۔ شام کو صرف مالی امداد نہیں بلکہ ایک دیرپا امن کے قیام کے لیے عملی تعاون کی ضرورت ہے۔ یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں دنیا مل کر شام کی نئی صبح کو حقیقی روشنی میں تبدیل کر سکتی ہے۔ اگر عالمی قوتوں نے محض اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کو ترجیح دی، تو یہ امیدوں کی کرنیں پھر سے معدوم ہو سکتی ہیں۔
اندھیروں کے بعد روشنی ہمیشہ آتی ہے، لیکن روشنی کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل جدوجہد اور عزم درکار ہوتا ہے۔ شام کو اپنی کھوئی ہوئی عظمت واپس حاصل کرنے کے لیے نہ صرف عوامی عزم کی ضرورت ہے بلکہ عالمی سطح پر دیرپا تعاون اور عملی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ امید ہے کہ یہ نئی صبح واقعی شام کے لیے امن اور ترقی کا آغاز ثابت ہوگی۔
شام، تمہیں دوبارہ زندہ ہونے کا موقع مبارک ہو!








