98
تعلیمی ادارے کسی بھی ملک کے مستقبل کے عکاس ہوتے ہیں۔
تعلیمی ادارے کسی بھی ملک کے مستقبل کے عکاس ہوتے ہیں۔ کوئی ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہو گا یا تنزل کا شکار اس کا تعین اسکے تعلیمی اداروں کو دیکھ کر با خوبی کیا جا سکتا ہے ۔ اگر وہاں کا ماحول ، ٹرینڈز اور وہاں کے طلبا و اساتذہ اور انتظامیہ کا…
تعلیمی ادارے کسی بھی ملک کے مستقبل کے عکاس ہوتے ہیں۔ کوئی ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہو گا یا تنزل کا شکار اس کا تعین اسکے تعلیمی اداروں کو دیکھ کر با خوبی کیا جا سکتا ہے ۔ اگر وہاں کا ماحول ، ٹرینڈز اور وہاں کے طلبا و اساتذہ اور انتظامیہ کا رویہ، سوچ اور عمل نئے نئے تجربات کرنے، نئی چیزیں سیکھنے اور ایجاد کرنے کا ہے تو بلاشبہ وہ ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہے لیکن اگر صورتحال اسکے برعکس ہے تو جلد وہ ملک بحرانوں کی زد میں ہو گا۔
وطن عزیز پاکستان کی جی ڈی پی میں سب سے بڑا حصہ زراعت کا ہے اور زرعی تحقیق اور تعلیم کے حوالے سے پہچانے جانے والی پاکستان کی دوسری بڑی زرعی یونیورسٹی، پیر مہر علی شاہ ایرڈ ایگری کلچر یونیورسٹی راولپنڈی کی صورتحال دیکھ کر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستان آئے سال زرعی پیداوار کے مسائل کا شکار کیوں ہو رہا ہے۔ اور بدقسمتی یہ ہے کہ مستقبل میں بھی کسی بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آتی۔
جامعہ کے تعلیمی و تحقیقی ماحول اور معیار کے بارے آپ یہاں سے اندازہ لگائیے کہ پروفیسر حضرات طالبات کو حراساں کرنے میں مشغول رہتے ہیں جبکہ طالب علم گروہ بندی کر کے آئے روز لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔ بات روزمرہ کی لڑائیوں سے بڑھ کر اسلحے کے استعمال تک جا پہنچی ہے. حال ہی میں دو گروہوں کی لڑائی کے دوران یونیورسٹی کیمپس کے اندر نہ صرف اسلحہ لہرایا گیا بلکہ فائر بھی کیا گیا۔ ایسے میں یونیورسٹی انتظامیہ اور سیکیورٹی مکمل بے بس اور ناکام نظر آتی ہے اور 16 ہزار طلبا و طالبات کی جانیں فقط ایک گولی کے رحم و کرم پر۔ لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی ان تمام فسادات اور جھگڑوں میں ملوث لوگ سر عام یونیورسٹی میں دندناتے پھرتے ہیں اور انہیں روکنے والا کوئی نہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ فقط اس ایک معاملے میں ناکام نہیں ہوئی بلکہ ایسے بےشمار واقعات ہیں جہاں یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنی نااہلی کا کا ثبوت پیش کیا ہے۔ جیسا کہ کچھ عرصہ قبل ایک شخص برقع پہن کر یونیورسٹی گرلز ہاسٹل میں بڑی آسانی سے داخل ہو جاتا ہے۔ اسی طرح منشیات کی روک تھام میں بھی یونیورسٹی انتظامیہ مکمل ناکام نظر آتی ہے۔ یونیورسٹی کیمپس اور ہاسٹلز منشیات کی آماجگاہیں بن چکے ہیں۔ یونیورسٹی مارکیٹ اور گراؤنڈ میں طالبعلم سر عام منشیات استعمال کرتے ھیں اور یونیورسٹی انتظامیہ کچھ کرنے سے قاصر ہے۔ اسی طرح بارہا نشان دہی کرنے اور درخواستیں دینے کے باوجود یونیورسٹی مارکیٹ میں پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ہے۔ یونیورسٹی ہاسٹل سے کبھی بجلی غائب ہو جاتی ہے تو کبھی پانی اور اگر اصرار کیا جائے کہ جنریٹر چلا دیں تو جنریٹر میں سے سے پٹرول غائب ہو جاتا ہے۔ یونیورسٹی میس کمیٹی کی بھی اپنی وکھری بدمعاشی ہے۔ نہ ان سے آڈٹ لیا جاتا ہے نہ ہی حساب کتاب اور ریٹس بھی انکے اپنے من پسند، کلاسز میں تو طلباء کو بلیک میل کرنے کے لیے اٹینڈینس شارٹیج نکالی جاتی ہے لیکن میس میں سب کی حاضری خود ہی پوری کر دی جاتی ہے چاہے اسنے کھانا کھایا ہو یا نہ کھایا ہو۔ اگر کوئی طالب علم 10 دن میس سے کھانا کھائے تو اسکی حاضری بھی پوری 30 دن کی ہی لگائی جاتی ہے ، ہفتہ ہفتہ ہاسٹل میں صفائی ہی نہیں کی جاتی۔
ان مسائل کو حل کرنے میں تو یونیورسٹی انتظامیہ مکمل ناکام اور غیر سنجیدہ ہے لیکن اگر کسی کام میں سنجیدہ اور ماہر ہے وہ تو وہ ہے کرپشن۔ اوروں کو تو چھوڑ یے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نعیم صاحب پر 117 ملین روپے کی کرپشن کے الزامات ہیں۔ جبکہ ایک اور خط جو کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ممبر ڈاکٹر اقرار احمد خان نے محکمہ اینٹی کرپشن کو لکھا اسکے مطابق پروفیسر ڈاکٹر نعیم جو کہ اس وقت ڈین ایگریکلچر فیکلٹی اور چیئرمین ریفریشمنٹ کمیٹی تھے نے سلور جوبلی کے موقع پر کھانے کی مد میں چار کروڑ روپے خرچ کیے، خط میں مزید کہا گیا کہ ایونٹ منیجمنٹ کمپنی اور فوڈ کمپنی نے ایک ہی شخص کو جعلی ادائیگیاں کیں۔ یہ واحد کیس نہیں ہے مالی کرپشن کا بلکہ یونیورسٹی کے اور بھی بہت سے اعلی افسران اور پروفیسر حضرات مالی و اخلاقی بے ضابطگیوں اور بد عنوانیوں میں ملوث پائے گئے اور ایسے بہت سے کیسز تو منظر عام پر آنے سے پہلے ہی چھپا لیے جاتے ہیں۔
اسکے علاؤہ یونیورسٹی انتظامیہ ان طالب علموں کے خلاف انتقامی کاروائیاں بھی بڑی مہارت سے کرتی ہے جو یا تو انکی بے ضابطگیوں اور بد عنوانیوں کو اجاگر کرتے ہیں یا مسائل کے حل کے لیے کسی قسم کا دباؤ ڈالتے ہیں۔ پچھلے سال سردیوں میں کچھ طالب علم جب حال وارڈن کے پاس مسائل حل کروانے کے لیے گئے تو حال وارڈن کی جانب سے انہیں دھکے مار کر کمرے سے باہر نکال دیا گیا اور ساتھ ہی ہاسٹل سے ٹرمینیٹ کرنے کی دھمکیاں بھی دیں اور تو اور انہی طالب علموں کو وارننگ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیے گئے۔ اسی طرح گزشتہ دنوں چند طالب علموں کی طرف سے کچھ سٹوڈنٹس جو کہ ہاسٹل اور یونیورسٹی میں ہم جنس پرستی کو فروغ دے رہے تھے کو روکنے کی کوشش کی گئی تو بجائے ان ہم جنس پرستوں کے خلاف کاروائی کرنے کے ان طالب علموں کو یونیورسٹی سے اور ہاسٹل سے ایکسپل کر دیا گیا۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ ہم جنس پرستوں اور یونیورسٹی انتظامیہ نے ملکر ان طالب علموں کے خلاف جو انکی راہ کی دیوار بنے تھے ایک جھوٹی ایف آئی آر بھی درج کروائی گئی جو کہ بعد میں جھوٹے الزامات ثابت نہ کر پانے کی وجہ سے واپس لے لی گئی۔ یونیورسٹی انتظامیہ کا یہ وطیرہ ہے کہ جو بھی ان کی غلطیوں اور بد عنوانیوں پر سوال اٹھاتا ہے یا انہیں مسائل کو حل کرنے کے لیے مجبور کرتا ہے یہ انکے ساتھ دشمنوں کی طرح پیش آتے ھیں۔ ایسے طالب علموں کو تعلیمی حوالے سے تنگ کیا جاتا ہے۔ پروفیسر حضرات باقاعدگی سے ایسے طالب علموں پر نظر رکھتے ھیں اور کسی چھوٹی سی غلطی کو بنیاد بنا کر ان کے کیریئر سے کھیلا جاتا ہے اور انکی کردار کشی کی جاتی ہے۔
پروفیسر حضرات کی تعلیم اور تحقیق کے متعلق غیر سنجیدگی، اعلی افسران کی بد عنوانیوں اور یونیورسٹی انتظامیہ کی من مانیوں اور اس رویے کی بڑی وجہ سیاسی و سفارشی بھرتیاں اور من پسند افراد کی اعلی عہدوں پر تعیناتیاں کرنا ہے اور اس سب کا مقصد برسر اقتدار گروپ کا اپنے اقتدار کو طول اور اپنی مالی و اخلاقی کرپشن اور بد عنوانیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔
جہاں ایک طرف یونیورسٹی کا تعلیمی و تحقیقی ماحول و معیار دن بدن گرتا چلا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف یونیورسٹی فیسیں آئے سال بڑھتی چلی جا رہی ہیں اور غریب طلبا وطالبات کے لیے حصول علم کو مشکل سے مشکل تر بنا رہی ہیں۔ یونیورسٹی فیسوں میں اضافے کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ BS Geo Informatics کی فیس 2020 میں 12700 تھی جو کہ 2024 میں بڑھ کر 45850 روپے تک جا پہنچی ہے، اسی طرح BS HND کی فیس 19600 سے بڑھ کر 45650 روپے تک جا پہنچی ہے۔
جس جامعہ میں اس قدر مسائل ہوں، اور ان مسائل کو لیکر جامعہ کے منتظمین کا یہ رویہ ہو، اعلی افسران اور پروفیسر حضرات مالی و اخلاقی بے ضابطگیوں اور بد عنوانیوں میں ملوث ہوں اور طالب علموں کو ایک موثر اور مثبت تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے میں ناکام ہوں تو ایسے میں یہ کہنا کہ اس ملک کا مستقبل خطرے میں ہے اور ابھی مزید بحران ہمارے منتظر ہیں کسی صورت غلط نہ ہو گا۔