11 جُمادى الأولى / October 22

لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف کی بہنوں کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سیکریٹری داخلہ پنجاب اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو 28 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ سماعت کے دوران نظر بندی کے احکامات ختم ہونے اور ڈپٹی کمشنر لاہور کو فریق نہ بنانے کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔

لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی بہنوں کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سیکریٹری داخلہ پنجاب اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو 28 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کی تینوں بہنوں کے نظر بندی کے احکامات 19 اور 20 اکتوبر کو ختم ہو چکے ہیں۔ وکیل کے مطابق متعلقہ نوٹیفکیشن کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی بازیابی کا معاملہ عدالت کے سامنے ہے۔

ڈپٹی کمشنر لاہور کو فریق نہ بنانے پر سوال

سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کو مقدمے میں فریق کیوں نہیں بنایا گیا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے جاری کردہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن ختم ہو چکا ہے، اسی لیے انہیں درخواست میں فریق نہیں بنایا گیا۔

احد خان کی ڈپٹی کمشنر کو طلب کرنے کی استدعا

سماعت کے موقع پر عظمیٰ خان کے شوہر احد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کو بھی طلب کیا جائے تاکہ معاملے کی وضاحت ہو سکے۔

اس پر جسٹس عبہر گل نے ریمارکس دیے کہ جب ڈپٹی کمشنر لاہور کو درخواست میں فریق ہی نہیں بنایا گیا تو انہیں عدالت میں کیسے طلب کیا جا سکتا ہے۔

مزید سماعت 28 اکتوبر کو ہوگی

عدالت نے سیکریٹری داخلہ پنجاب اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو 28 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی کارروائی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب آئندہ سماعت پر متعلقہ حکام کے مؤقف اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی بازیابی سے متعلق صورتِ حال مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔